قومی

  • قومی
  • Sep 15, 2019

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 42ویں روز بھی فوجی محاصرہ جاری

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام کی طرف سے کرفیو اور دیگر پابندیوں کا سلسلہ مسلسل 42ویں روز بھی برقرار ہےجسکی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں انسانی بحران سنگین شکل اختیار کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ وادی سخت فوجی محاصرے میں ہے ، جگہ جگہ تعینات لاکھوں بھارتی فوجیوں نے لوگوں کو مسلسل گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔ تعلیمی ادارے، دکانیں، بازار ، کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے ۔ پوری مقبوضہ وادی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل اور ٹی وی چینلز بند ہیں۔
مقبوضہ علاقے کے مواصلاتی شعبے کو گزشتہ ایک ماہ کے دوران اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ”ایمنسٹی انٹرنیشنل“نے ٹویٹر پر جاری ویڈیو میں مقبوضہ کشمیر میں جاری محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی دے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ویڈیو میں بھارتی فورسز کے لوگوں پر بہیمانہ مظالم کا پردہ چاک کیا ہے ۔ویڈیو میں کہا گیا کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے ، لوگ اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے سے قاصر ہیں جبکہ اطلاعات کی بہم رسانی کی سہولت پر پوری طرح سے حکومت کا کنٹرول ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ویڈیو میں کہا کہ مسلسل محاصرے کے باعث کشمیریوں کو درپیش تکالیف اور پریشانیوں کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
بھارتی ریاست تلنگانہ میں ایک سیمینار کے مقررین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے پر نریندر مودی کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسکی بحالی کامطالبہ کیا ہے۔
برسلز میں یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت پر تجارتی اور سفری پابندیاں عائد کرنے پر زوردیا ہے۔ تقریب کا اہتمام یورپی پارلیمنٹ میں فرینڈز آف کشمیر گروپ اورجموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل نے مشترکہ طورپریورپی پارلیمنٹ میں کیاتھا ۔
امریکی کانگریس کی رکن راشدہ طلیب نے اپنے ٹویٹ میں مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کےاقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارت کے ناقابل قبول اقدام نے کشمیریوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں ۔
امریکی کانگریس کے رکن بریڈشرمین نے کہا ہے کہ کانگریس کی ذیلی کمیٹی میں جنوبی ایشیاء میں انسانی حقوق کی صورتحال پر جلد سماعت ہوگی جس میں کشمیر میں مواصلاتی نیٹ ورک اور شہری حقوق کی بحالی پر بات ہوگی ۔