بین الاقوامی

  • بین الاقوامی
  • Apr 22, 2019

سری لنکا میں چرچز اور ہوٹلوں میں دھماکے

سری لنکا میں گرجا گھروں اورہوٹلوں میں دھماکوں کے دوسرے روز آج پورے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیےکرفیو نافذکردیاگیاہے اورسیکورٹی فورسز اورپولیس نے ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپے اور گرفتاریاں شروع کردی ہیں۔ اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کیاجاچکاہے جن سے تحقیقات جاری ہے ۔
وزیراعظم رانیل وکرماسنگھے نے متاثرہ گرجاگھروں کا دورہ کیا ۔۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کےلیے سیکورٹی فورسز کو تمام اختیارات دیدیے گئے ہیں۔
دنیا بھر سے سری لنکن حکومت اور عوام سے اظہار یکجہتی کا سلسلہ جاری ہے۔ کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ فرانسِس نے کہا کہ ایسٹرکا دن سوگ اور تکلیف لے کر آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس موقع پر سری لنکا کی معاونت کے لیے تیار ہے۔ جرمن چانسلر انگلا مرکل نے کہا کہ افسوس ناک بات ہے کہ لوگ ایسٹر کے تہوار کی خوشیاں منا رہے تھے، جب انہیں بزدلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ سری لنکن عوام سے اظہار یکجہتی کےلیےایفل ٹاور رات بھر تاریکی میں ڈوبا رہا۔ دھماکوں میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 290 ہوگئی، جبکہ 500زخمی ہیں اب تک کسی تنظیم نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے سری لنکا کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔۔ عمران خان نے دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اورافسوس کا اظہار کیا ہے
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سری لنکن وزیراعظم رانیل وکرم سنگھے سے رابطہ کیا ، دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی ومالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیاہے۔ ٹوکیو میں پاکستان ٹیلی وژن نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےوزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام دکھ کی اس گھڑی میں سری لنکا کیساتھ کھڑے ہیں۔