قومی

  • Sep 22, 2022

سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی کو ایک بار پھر قومی اسمبلی میں واپسی کا مشورہ

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر قومی اسمبلی میں واپسی اور پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ قومی اسمبلی سے تمام استعفے ایک ساتھ منظور کرنے سےمتعلق پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران دو رکنی بنچ کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عوام نے نمائندوں کو پانچ سال کیلئے منتخب کیا ہے۔ پارلیمان میں کردار ادا کرنا ہی اصل فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں لوگ اس وقت سیلاب کے باعث بے گھر ہیں، بیرون ملک سے لوگ متاثرین کی مدد کیلئے آ رہے ہیں ۔پی ٹی آئی کو اندازہ ہے کہ 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہونگے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون کے بغورجائزے کے بعد فیصلہ دیا ہے، عدالت کیلئے سپیکر کے کام میں اس قسم کی مداخلت مشکل کام ہے۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نےموقف اختیار کیا کہ قاسم سوری نے تحریک انصاف کے استعفے منظور کر لیے تھے جس کے بعد دوبارہ تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
بنچ کی رکن جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ قاسم سوری کے فیصلے میں کہیں کسی رکن کا نام نہیں جس کا استعفی منظور کیا گیا ہو، تحریک انصاف بطور جماعت اس معاملے میں عدالت کیسے آ سکتی ہے، استعفی دینا کسی رکن کا انفرادی عمل ہے۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ تحریک انصاف کو استعفوں کی سکروٹنی سے کیا مسئلہ ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ کیا سپیکر سے کبھی پوچھا گیا کہ وہ استعفوں کی تصدیق کیوں نہیں کر رہے ،سپیکر کے کام کا اپنا طریقہ کار ہے عدالت کیسے مداخلت کر سکتی ہے ۔
عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مزید تیاری اور موکل سے ہدایات کیلئے وقت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔