افغانستان میں شدید انسانی بحران کا خدشہ
امریکا کی جانب سے افغانستان کےاثاثے منجمد کرنےسے ملک میں شدید انسانی بحران کاخطرہ بڑھ گیاہے۔افغانستان میں کابل اور مزارشریف سمیت دیگر شہروں میں لوگ اپنی ضروریات زندگی کی اشیاء فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ مختلف شہروں کی سڑکیں بازاروں کا منظر پیش کررہی ہیں۔ مجبور اور غریب شہری اپنے بچوں کاپیٹ پالنے اوران کےلئے خوراک کاانتظام کرنےکےلئےاپنا ضرورت کا سامان بھی فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
مریکہ کی جانب سے افغانستان کے ساڑھے نو ارب ڈالر منجمد کئےجانے کے بعد افغان عبوری حکومت کومعاشی مسائل کا سامنا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق افغانستان کے بینکوں میں ڈالرزختم ہورہے ہیں۔اگر بینکوں کو بروقت فنڈز جاری نہ کیے گئےتو بینکوں کے بند ہونے کا خدشہ ہے ۔افغانستان کی نئی حکومت کو ملک کانظم و نسق چلانے اور عوام کواشیائےضروریہ کی فراہمی کےلئے شدید مالی مسائل کا سامنا ہے۔ بینکوں کی انتظامیہ نے بھی اپنی تشویش نئی حکومت اور مرکزی بینک تک پہنچادی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کےمطابق بینکنگ کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیسے کی کمی سے افغانستان کی معیشت کو مزید نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے۔مہنگائی کی صورت حال میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔افغانستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار امریکہ کی طرف سے کابل میں مرکزی بینک کوبھیجنے جانےوالے سینکڑوں ملین ڈالر پرتھا، جو بینکوں کے ذریعے افغان عوام تک پہنچتے تھے،افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکہ کی جانب سے ڈالرز ملنے کا سلسلہ معطل ہو چکاہے۔
بڑھتے ہوئےمسائل اور انسانی بحران کے خطرے کے پیش نظرطالبان حکومت اور کئی دیگر ممالک نے امریکہ سے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عبوری افغان حکومت کی وزارت تعلیم نےکل سےلڑکوں کے سکول اور مدرسے دوبارہ کھولنے کااعلان کیا ہے۔وزارت تعلیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہاگیا ہےکہ تمام سکولوں اور رجسٹرڈ مدرسوں کے طالب علم اور ان کے اساتذہ اپنے تعلیمی اداروں میں حاضری کویقینی بنائیں۔
یونان میں جنوبی یورپی ممالک کاسربراہ اجلاس آج ہورہاہے۔
اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی اورسیکورٹی چیلنجز پرخصوصی توجہ دی جائے گی۔افغانستان کی موجودہ صورت حال اور ہجرت جیسے موضوعات بھی اجلاس میں شامل ہیں۔یونانی حکومت کے ترجمان کاکہنا ہےکہ ایک روزہ اجلاس میں بحیرہ روم میں سلامتی اور استحکام کو درپیش خطرات اوردیگر مسائل پر بھی توجہ دی جائے گی۔