قومی

  • قومی
  • Apr 13, 2021

عالمی ادارے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے قتل وغارت کا نوٹس لیں، کل جماعتی حریت کانفرنس

کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زوردیاہے کہ وہ بھارت کےغیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر میں فوج کی طرف سے بڑے پیمانے پر قتل وغارت، غیر قانونی گرفتاریوں، ظلم و تشدد اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی کا نوٹس لیں۔
حریت کانفرنس کے ورکنگ وائس چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر سے ایک بیان میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے تمام فریقوں کے درمیان بامعنی مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نسل کشی ُاور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
حریت رہنماؤں شبیر احمد ڈار، بلال احمد صدیقی، یاسمین راجہ، عبدالصمدانقلابی، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، پیپلز لیگ اور تحریک وحدت اسلامی سمیت حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ قتل وغارت اور تباہی کا سلسلہ مودی حکومت کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقبوضہ جموں کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرناہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ظالم بھارتی فوج کی طرف سے 72 گھنٹے سے کم وقت میں 12 بیگناہ افراد کے قتل عام سے ثابت ہوگیا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیرکو بدترین قتل گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں قابض فورسز کھلے عام لوگوں کاخون بہارہی ہیں۔
مقبوضہ جموں کشمیر کی سابق وزیراعلی اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے 5اگست 2019 کا یک طرفہ اقدام ریاستی عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔سرینگرمیں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام سے چھینا گیا ان کا بنیادی حق اور شناخت بلاتاخیر بحال کرے۔
جموں کشمیر سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کورونا وبا میں تیزی کے باوجود سیاحت کے نام پر تقریبات منعقد کرکےریاستی عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک اہم پیش رفت میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت میں قومی ائرلائن سے منسلک 4000 سے زائد پائلٹوں کے خلاف جعلی لائسنس رکھنے پر تحقیقات کی جا رہی ہے۔ ہوابازی کے نگران بھارتی ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ایوی ایشن کی طرف سے اس انکشاف سے دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی ہے کیونکہ نریندر مودی کے زیرقیادت بھارت کو پہلے ہی یورپی یونین کے ڈس انفو لیب جیسے کئی سکینڈلز کا سامنا ہے ۔