قومی

  • قومی
  • Apr 07, 2021

روسی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا تاہم باہمی ترقی ، خود مختاری اور برابری کی بنیاد پر خطے کے بہترین مفاد میں کام کرتا رہے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ان خیالات کا اظہار پاکستان کے دورے پر آئے روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کے دوران کی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے روس کے وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور باہمی عسکری تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ آرمی چیف نے کہاکہ پاکستان ان تمام اقدامات کو خوش آمدید کہے گا جو کہ افغانستان میں امن اور استحکام لاسکے اور یہی خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت بڑھتے ہوئے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون ، خطے کی سیکیورٹی صورت حال بالخصوص افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ معزز مہمان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کی تعریف کی۔ انہوں نے خطے کے امن و استحکام بالخصوص افغان امن عمل کےلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو بھی سراہا۔ ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاک روس تعلقات صحیح سمت میں گامزن ہیں اور مستقبل میں یہ تعلقات کثیر الجہتی ہوں گے۔
نو سال بعد کسی روسی وزیرخارجہ کا یہ پہلا دورہ ہے ۔ یہ اہم دورہ علاقائی اور عالمی توجہ کا مرکز بنا ہو اہے۔ دونوں ملکوں کے مابین دفاع اور انرجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان زبردست دفاعی تعاون کئی سالوں سے جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان "درزبا"نامی مشقوں کا آغاز دو ہزار سولہ سے ہوا۔ دوہزار بیس تک یہ مشقیں منعقد کی جا چکی ہیں جو کہ دہشت گردی کے خلاف دونوں ملکوں کے درمیان مثالی تعاون کا ثبوت ہے۔ اپریل دوہزار اٹھارہ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے روس کے اہم دورہ کیا ۔ اس کے علاوہ پاکستان نیوی کی کثیر المکی بحری مشق "امن " میں روس کی بحریہ نے بھرپور شرکت کی۔