وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ملک میں گندم کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس
حکومت نے زرعی شعبے کے فروغ اور کسانوں کی خوشحالی کیلئے گندم کی سرکاری قیمت خرید چودہ سو روپے فی من سے بڑھا کر اٹھارہ سو روپے کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ملک میں گندم کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس میں کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس کا فائدہ کسان کو ہونا چاہیئے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس سے مارکیٹ میں آٹے کی قیمت میں اضافہ نہ ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی ہدایت کی بروقت تمام ضروری اقدامات کئے جائیں تاکہ ملک میں کسی بھی صورت گندم کی قلت پیدا نہ ہو۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں گندم کی طلب پوری کرنے کیلئے تیس لاکھ ٹن درآمد کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد قومی تحفظ خوراک کے وفاقی وزیر سید فخر امام نے پنجاب کے وزیرخوراک عبدالعلیم کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سال میں گندم کی سرکاری قیمت خرید میں اس قدر اضافہ کیا گیا ہے جس کا مقصد کسان کو خوشحال بنانا ہے۔
وزیرخوراک پنجاب عبدالعلیم خان نے کہا کہ امدادی قیمت میں اضافے کا فائدہ کسانوں اور کاشتکاروں کو ہوگا۔ گندم کی سرکاری قیمت بڑھانے کے باوجود آٹے کی قیمت نہیں بڑھنے دی جائے گی۔
پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت پہلے ہی گندم اور آٹے پر 80 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے اور تمام آٹا ملوں کو رعایتی نرخوں پر پورا سال گندم کی فراہمی جاری رہے گی۔