قومی

  • قومی
  • Feb 23, 2021

سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں بیلٹ پیپر ووٹوں کی خریدو فروخت کا جرم ثابت کرنے کے لئے اہم ثبوت ہے ۔بیلٹ پیپر کی شناخت کےبغیر کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ کون سا ووٹ کس رکن پارلیمنٹ نے ڈالا۔
صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران پانچ رکنی بنچ کےسربراہ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کا مکمل طریقہ کار آئین میں نہیں قانون میں درج ہے ۔انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے مابین اتحاد کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے وکیل رضا ربانی نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ سینیٹ انتخابات میں متناسب نمائندگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کی اسمبلی میں اکثریت سینیٹ میں بھی برقرار رہے ۔ ووٹوں کی تعداد میں فرق کو خریدوفروخت سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے صدارتی ریفرنس میں مختلف بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کے فریق بننے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں مختلف دوسرے معاملات پر عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔
عدالت نے مختلف فریقوں کے وکلا کے لئے دلائل دینے کےوقت کا دورانیہ طے کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔