قومی

  • Feb 20, 2021

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی دہشت گردی

بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرمیں ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع شوپیاں میں تین کشمیری نوجوانوں شہید کر دیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ان نوجوانوں کو بادی گام کے علاقےمیں محاصرے اور تلاشی کی پر تشدد کارروائی کے دوران شہید کیاگیا۔ آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں آپریشن جاری تھا۔ قابض فورسز نے پلوامہ اور بڈگام کے مختلف علاقوں میں دوسرے روز بھی آپریشن جاری رکھے۔
سرینگر اور بڈگام میں دو مختلف حملوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکرٹری جنرل مولوی بشیر احمد اور سینئر حریت رہنما غلام محمد خان سوپوری نے شوپیاں میں شہید ہونیوالے نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شہداءکی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور ان کے مشن کو ہرقیمت پر پایہءتکمیل تک پہنچائیں گے۔ مولوی بشیر احمد نے افسوس ظاہر کیا کہ ریاستی عوام کو خود ارادیت کے مطالبے کی پاداش میں وحشیانہ طریقے سے قتل کیا جا رہا ہےاور پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
حریت رہنماؤں اور تنظیموں عبدالاحد پرہ ، میر شاہد سلیم ،عبدالصمد انقلابی اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے اپنے بیانات میں کہا کہ مخصوص غیر ملکی نمائندوں کا حالیہ دورہ مقبوضہ علاقے کی ابتر صورتحال کے حوالے سے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی فاشسٹ مودی حکومت کی ناکام کوشش تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں نےاس موقع پر مثالی ہڑتال کر کے عالمی برادری کو واضح پیغام دیا کہ بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں متعارف کرایا گیا نیا ڈومیسائل قانون علاقے میں آبادی کا تناسب بگاڑ سکتاہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہاکہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو یک طرفہ طورپراور بغیر کسی صلاح مشورے کےعلاقے کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کرکے مئی 2020 میں نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کرائے جن کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں رہائش پذیر لوگوں کو دیاگیا تحفظ ختم کردیاگیا۔