قومی

  • قومی
  • Jan 24, 2021

کل جماعتی حریت کانفرنس کا نظر بند کشمیری حریت رہنماؤں اورکارکنوں کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار

کل جماعتی حریت کانفرنس نے آگرہ اور دوسری بھارتی جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیری حریت رہنماؤں اورکارکنوں کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔کے ایم ایس کے مطابق سرینگر میں حریت ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ ان شخصیات کو انکے سیاسی نظریات کی وجہ سے بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،نظر بندوں کو انتہائی تنگ و تاریک سیلزمیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد اورمعیاری غذا سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے ۔انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور دوسرے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ نظر بندوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے اپنی ٹیمیں جیلوں کے دورےپر بھیجیں اورانکی فوری رہائی کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں ۔
بھارتی انتظامیہ نے ایک حکمنامے کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں فور جی انٹرنیٹ سروس پر پابندی میں چھ فروری تک توسیع کر دی ہے۔تاہم گاندر بل اور ادھم پور کےاضلاع اس پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔مقبوضہ علاقے کی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے فور جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت دائر کی ہے۔
ادھربھارتی فوج اور پولیس نے 26جنوری کو نام نہاد یوم جمہوریہ سے قبل سرینگر اور دیگرعلاقوں میں تلاشی اور پوچھ گچھ کا سلسلہ تیز کر دیا ہے ۔قابض فورسز نے ہر سڑک او ر چوراہے پر چیک پوسٹیں قائم کر دی ہیں جہاں مسافروں ،راہگیروں اور گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی جار ہی ہے۔
لبریشن الائنس اورتحریک آزادی کی طرف سےمقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں جن میں لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ 26جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں اور مکمل ہڑتال کریں ۔ پوسٹرز پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی اورنظربند مزاحمتی رہنماؤں یٰسین ملک، شبیر احمد شاہ، اشرف صحرائی، آسیہ اندرابی ، مسرت عالم بٹ اور نعیم احمد خان کی تصاویر موجود ہیں۔