قومی

  • قومی
  • Jun 30, 2020

قومی اسمبلی نے فنانس بل مجریہ 2020کی منظوری دیدی

  قومی اسمبلی نے آج فنانس بل مجریہ 2020 کی منظوری دی جس سے آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ تجاویز کو قانونی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔
یہ بل صنعتوں اورپیداوار کے وزیر حماد اظہر نے پیش کیا۔
فنانس بل مجریہ 2020 میں حزب اختلاف کی جانب سے تجویز کردہ ترامیم کو ایوان نے مسترد کردیں۔
اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اور ریلیف پر مبنی اس بجٹ کی مجموعی مالیت سات ہزار دو سو چورانوے ارب روپے سے زائد ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق مجموعی آمدنی کا تخمینہ چھ ہزار پانچ سو تہتر ارب روپے لگایا گیا ہے۔
سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے علاوہ ترقیاتی اخراجات کیلئے بجٹ میں ستر ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وفاقی اخراجات کا تخمینہ سات ہزار ایک سو سینتیس ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ بجٹ کا مجموعی خسارہ تین ہزار چار سو سینتیس ارب روپے ہے جو مجموعی ملکی پیداوار کا سات فیصد ہے۔
آئندہ مالی سال کیلئے سرکاری ترقیاتی شعبے کے پروگرام کا حجم ایک ہزار تین سو چوبیس ارب روپے ہے جس میں سے چھ سو چھہتر ارب روپے صوبوں کو دیئے گئے ہیں۔
حکومت نے کورونا وائرس کی عالمی وبا اور دیگر قدرتی آفات کے مضر اثرات کم کرنے اور لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے ستر ارب روپے کا ایک خصوصی ترقیاتی پروگرام بھی وضع کیا۔
زرعی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے اور ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے دس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔