بین الاقوامی

  • بین الاقوامی
  • Nov 09, 2019

بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلہ نے مسلمان اقلیتوں سے ان کا حق چھین لیا

تعصب پر مبنی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلہ نے مسلمان اقلیتوں سے ان کا حق چھین لیا۔بھارتی عدالت عظمی کے پانچ رکنی بینچ نے 25سال سے التواءکا شکار ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بابری مسجد کی زمین ہندوں کو دی جائے اور مسلمانو ں کو متبا دل پانچ ایکڑ زمین دی جا ئے ۔
بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نےتاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا یا ۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جب کہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلے میں یہ کہنا کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے، عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اس کے عدل میں دہرے معیارکا عکاس ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مطابق ریونیو ریکارڈ کے مطابق زمین سرکاری تھی جب کہ بابری مسجد کی شہادت قانون کی خلاف ورزی ہے۔
بھارتی عدالت نے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی موقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد مندرکو گرا کرتعمیرکی گئَی جب کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے متنازعہ زمین کو تین حصوں میں بانٹنے کا فیصلہ غلط تھا۔
چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندراسکیم تشکیل دے کر وہاں مندرکی تعمیر کی جائے اور مسلمانوں کو 5 ایکڑ متبادل زمین دی جائے ۔
بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی بابری مسجد کے طویل تنازع کا حتمی فیصلہ بھی متنازعہ انداز میں سنا یا ہے۔واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ آج کا فیصلہ بھارتی حکومت کی پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولنے کے مثبت اقدام کو سبوتاژ کرنے کی صریحاًکوشش ہے ۔
دنیا کے لئے آج یہ سوچنے کا مقام ہے جب بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ بھی متنازعہ انداز میں سنایا۔ایک طرف پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ حاصل ہے اور انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کی مکمل آزادی ہے۔پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولنے کا اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے اقلیتوں کے حقوق کا خیال کرتا آیا ہے۔اور ہر حکومت نے قائداعظم کے اقلیتوں کے بارے میں فرمودات کا ہمیشہ احترام کیا ہے اور اس حوالے سے اقلیتوں کو بھرپور تحفظ فراہم کیا ہے۔دوسری بھارت میں جہاں بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اقلیت میں مسلمانوں کو بھارتی انتہاپسندی کا سامنا ہے اور بسا اوقات انہیں ان کی مذہبی رسومات کی ادائیگی سے بھی روک دیا جا تا ہے۔
ٖفیصلے سے قبل ہی ایودھیا سمیت بھارت بھر میں سیکیورٹی سخت کی گئی ۔1528ء میں مغل دور حکومت میں بھارت کے موجودہ شہر ایودھیا میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جس کے حوالے سے ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔
برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کیلئے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔1992 میں ہندو انتہا پسند پورے بھارت سے ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں 6 دسمبر کو سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا۔حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیئے تھے۔