ٹاپ سٹوری

  • ٹاپ سٹوری
  • Oct 18, 2019

وزیراعظم عمران خان سے جیدعلمائے کرام اور مشائخ کے وفد کی ملاقات

وزیرِ اعظم عمران خان سے علماء و مشائخ کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وفد میں تمام مسالک اور تنظیمات المدارس کے نمائندہ علمائے کرام اور مشائخ شامل تھے۔
علمائے کرام نے وزیرِ اعظم کو مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کرنےپر خراج تحسین پیش کیا۔علمائے کرام نے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان نے ناموس رسالت اور دین اسلام کے بارے میں حقائق پر مبنی موقف جس دلیرانہ انداز سے پیش کیا اس پر علمائے کرام اور پوری قوم ان کی مشکور ہے۔
علمائے کرام نے ترکی اور ملائیشیا کے تعاون سے اسلامی تعلیمات کو اجاگر کرنے کے لئے وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے نئے چینل کھولے جانے کے اقدام کو بھی سراہا۔ علمائے کرام نے عالم اسلام خصوصاً مشرق وسطی میں امن کے فروغ کے لئے وزیرِ اعظم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔علمائے کرام نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کے ویژن اور اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں میں تمام علمائے کرام حکومت کے شانہ بشانہ کردار ادا کریں گے۔
علمائے کرام کی جانب سے کہا گیا کہ وہ ملکی مفادات کے تحفظ میں ریاست پاکستان اور افواجِ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ وفد نے مدارس کی بہتری و اصلاحات خصوصاً نظام و نصاب تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں بھی حکومتی کاوشوں کو سراہا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے اور معاشرے میں اتحاد کو فروغ دینے میں علمائے کرام کا کردار کلیدی ہے۔ حکومت اس ضمن میں علمائے کرام سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے انکو اس مقصد میں ساتھ لیکر چلنے کے لئے پرعزم ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس وقت تعلیم کے شعبے میں مختلف نظام اور نصاب رائج ہیں جس سے نہ صرف معاشرہ تقسیم کا شکار ہے بلکہ مختلف طبقات میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نظام اور نصاب تعلیم میں اصلاحات کی جائیں اور اس ضمن میں علمائے کرام کا تعاون ازحد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مدرسے سے فارغ التحصیل طلبا کو بھی زندگی میں وہی مواقع میسر آئیں جو انگریزی و دیگرسکولوں کے طلبا کو میسر آتے ہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانا انکادیرینہ مقصد ہے۔ اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے وہ اپنی ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے ہر سطح پر کشمیر کے مسلمانوں کا مقدمہ لڑاہے۔ ہندوستان کی حکومت جانتی ہے کہ وہ اپنی بربریت اور نو لاکھ فوج سے کشمیریوں کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کشمیری عوام کو ان کی منزل سے دور رکھ سکے۔