بین الاقوامی

  • بین الاقوامی
  • Oct 16, 2019

صدر ٹرمپ کا ترک صدر کو ٹیلی فون

شام میں کُرد ملیشیا کے خلاف ترک فوج کی کارروائی کےرد عمل میں امریکہ نے ترکی کےتین وزراءپر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی دفاع اور توانائی کی وزارتوں اور دفاع، توانائی اور داخلہ کے وزراء پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔امریکہ نے تینوں ترک وزراء کو بلیک لسٹ کرتے ہوئےامریکہ میں اُن کے اثاثے منجمد کر دیئے ہیں اور اُن کے امریکہ میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہےکہ اگر ترک حکومت نے خطرناک اور تباہ کن راستہ نہ چھوڑا تو امریکہ ترکی کی معیشت تباہ کر دے گا۔
دوسری جانب واشنگٹن میں امریکی نائب صدر مائیک پنس نے امریکی وزیرخزانہ سٹیون منوچن کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ نےٹیلی فون ترک صدررجب طیب اردوان کو شام میں فوری طور پر فوجی کارروائی بند کرنے کا کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کیلئے گرین سگنل نہیں دیا۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ ترک کارروائی سے بےگناہ شامی شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں اور داعش کو شکست دینے کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ وہ شام کے معاملے پر بات چیت کیلئے جلد ترکی کا دورہ کریں گے۔
اس سے پہلےترک صدر رجب طیب اردوان نے سرکاری ٹی وی پر خطاب میں عالمی دباؤ اور پابندی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے شام میں فوجی آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ۔انہوں نے واضح کیا کہ شام میں ترک فوجی آپریشن کو دھمکیوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔صدر اردوان نے کہا کہ انہوں نے جرمن چانسلر اینگلا مرکل سے ٹیلی فون پر شام میں جاری آپریشن اور حالیہ پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا ۔ جرمن چانسلر نے فریقین کے درمیان ثالثی کی بھی پیشکش کی جو مسترد کردی گئی۔