قومی

  • قومی
  • Sep 15, 2019

کشمیر کی صورتحال پر 6 امریکی سینیٹرز کا پاکستان اور بھارت میں اپنےسفارتکاروں کو خط

مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کےحوالےسے 6 امریکی سینیٹرز نے بھارت میں امریکی سفیر کینتھ جسٹر اور پاکستان میں امریکی ناظم الامور پال جونز کو خطوط لکھ دیئے۔
امریکی سینیٹرز نے خطوط میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی سینیٹرز نے خطوط میں لکھا ہے کہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں مواصلاتی رابطے بند کر رکھے ہیں ،بھارتی حکومت کی یہ روش جمہوری اور انسانی حقوق دونوں کے منافی ہے۔
خطوط میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو، اظہار رائے، اجتماعات اور نقل وحرکت پر بندشیں ناقابل قبول پابندیاں ہیں، جموں و کشمیر سے اصل حقائق اور خبریں باہر نہیں آنے دی جارہیں اور بڑی تعداد میں جبری گرفتاریوں، عصمت دری، سیاسی اور مقامی رہنماؤں کی گرفتاریوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
امریکی سینیٹرز کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی جموں و کشمیر کی صورتحال پر الرٹ جاری کیے ہیں، جینوسائیڈ واچ کے کشمیر میں نسل کشی سےمتعلق الرٹ پر بھی گہری تشویش ہے۔
خطوط میں کہا گیا ہے کہ اس ساری صورتحال سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات مزید خراب ہونےکا خدشہ ہے، موجودہ خطرناک صورتحال پوری دنیا اور امریکا کیلئے بھی خطرہ ہے، پاکستان اور بھارت دونوں ہمارے اہم اتحادی ہیں، آپ دونوں اپنے دائرہ اختیار کے مطابق کشمیر کے مسئلے کےحل میں ہر ممکن مدد کریں۔
امریکی سینیٹرز نے کہاہےکہ آپ جموں و کشمیر میں عائد پابندیاں اٹھانے، صحافیوں کی وادی میں رسائی، غیر قانونی طورپرحراست میں لیئےگئے کشمیریوں کی رہائی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات، پاکستان بھارت کے درمیان تناؤ کم کرانے اور کشمیریوں کو حق رائے دہی دلاانے کیلئے بھی بھارتی حکومت پردباؤ ڈالیں۔
خط لکھنے والے سینیٹرز میں الہان عمر، رال ایم گریجلوا، اینڈی لیون، جیمز مک گورن، ٹیڈ لیو، اور ایلن لواینتھل شامل ہیں۔