ٹاپ سٹوری

  • ٹاپ سٹوری
  • Sep 15, 2019

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں معاشی ٹیم کا اجلاس

وزیرِ اعظم عمران خان کی صدارت میں حکومت کی معاشی ٹیم کا اجلاس اسلام آباد میں ہواجس میں معیشت کی بہتری اور استحکام کیلئے اقدامات اور ان کے اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔۔وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ معیشت میں بہتری کیلئے اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں اضافہ، رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں تجارتی خسارے میں اڑتیس فیصد کمی، ٹیکسوں کی وصولیوں میں بہتری، ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور نجی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے مختلف وزارتوں کامرس، صنعت و حرفت، نیشنل فوڈ سیکیورٹی، وزارتِ پٹرولیم، ایف بی آر، سرمایہ کاری بورڈ، ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے مالی سال کی ہر سہ ماہی کیلئے مقرر ہ اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیرِاعظم نے مختلف وزارتوں کو ہدایت کی کہ ان سہ ماہی اہداف کے حصول اور اس ضمن میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی جانچ کیلئے ٹائم لائن پر مبنی واضح طریق کار وضع کیا جائے تاکہ اہداف کی تکمیل مقررہ وقت میں ممکن بنائی جا سکے ۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے زراعت کے فروغ کیلئے مفصل پالیسی تشکیل دی ہے، عوام کو اس پالیسی اور اقدامات سے آگاہ کیا جائے تاکہ زراعت کے شعبے سے وابستہ افراد ان سے استفادہ کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا فروغ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ماضی میں بد انتظامی سے بند ہونے والے کارخانوں اور صنعتی یونٹس کی بحالی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس ضمن میں اداروں میں رابطوں کو بہتر اوربیمارصنعتی یونٹس کی بحالی کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے اور بڑے شہروں میں فکس ٹیکس کے نفاذ کی تجویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے ۔ وزیرِ اعظم نے چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ اپارٹمنٹس کی تعمیرات کو فروغ دینے اور اس میں سرمایہ کاری کے رجحان کی حوصلہ افزائی کیلئے مراعاتی پیکیج دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جائے ۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں ٹیکس وصولیوں میں خاطر خواہ بہتری اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوا ہے ۔ ۔وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نےسی پیک منصوبوں پر عمل درآمد میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک پاک چین دوستی کا مظہر ہے، اس منصوبے کے تحت مختلف پراجیکٹس سے ملکی اور علاقائی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گورنر اسٹیٹ بنک نے بتایا کہ ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ صنعتوں کے فروغ کے لئے مختلف تجاویز بھی پیش کی ہیں ۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ معیشت کی بہتری کیلئے روایتی طریق کار سے ہٹ کر تجاویز پیش کی جائیں اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا استحکام اور کاروباری طبقے کو ہر ممکن سہولت کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔
سیکرٹری خزانہ نے اجلاس کو بتایا گیا کہ معیشت سے متعلقہ اہم ورزاتوں کی ترجمانی سپیشل سیکرٹری خزانہ عمر حمید خان کے سپرد کر دی گئی ہے ۔اس حوالے سے وزارتِ خزانہ میں میڈیا سیل قائم کیا گیا ہے تاکہ معیشت سے متعلق معلومات کی رسائی کو ممکن بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ معلومات کی فراہمی کے ضمن میں متحرک کردار ادا کیا جائے تاکہ عوام کو گمراہ کن عناصرکی جانب سے غلط معلومات پر مبنی پروپیگنڈے سے بچایا جا سکے۔