ٹاپ سٹوری

  • ٹاپ سٹوری
  • Sep 12, 2019

کسی موڑ پر کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، صدر مملکت

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مدینہ جیسی فلاحی ریاست کا قیام اس حکومت کا خواب ہے ۔ لازمی ہے کہ قوم کا ہر فرد اس ریاست کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے ادارہ جاتی اصلاحات کا آغازکردیا ہے۔ صدر مملکت نے کہاکہ ہم کسی موڑ پر کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم ان کے ساتھ تھے، ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔دُنیا کو بھارت کی فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کرنی ہوگی ۔
صدر ڈاکٹر عارف علوی نے موجودہ حکومت کے دوسرے پارلیمانی سال کےآغاز پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ میرا آئینی فریضہ ہے کہ میں حکومت اور پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھوں اور جہاں ضرورت ہو وہاں آئین اور قانون کے مطابق رہنمائی کروں ۔صدر مملکت نے اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر بھارت کا اندرونی نہیں بلکہ عالمی سطح پر حل طلب مسئلہ ہے۔ بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ کشمیریوں کی نسل کشی قطعاً برداشت نہیں ۔
صدر مملکت نے کہاکہ گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی جنگ میں کرپشن کا بازار گرم رہا اور غیر منصفانہ فیصلے کیے گئے جس کے اثرات کا ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا اور جلد انصاف کی فراہمی ریاست مدینہ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
صدر مملکت نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ پاکستان کے خارجہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکاہے۔ تمام ہمسایہ ملکوں اور اقوام عالم کے ساتھ برابری، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں۔
صدر مملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان کی ایوان میں ہنگامہ آرائی جاری رہی ۔ مہمانوں کی گیلریوں میں وزیراعلی پنجاب ، وزیراعلی بلوچستان،گورنر خیبر پختونخوا ،گورنر بلوچستان ،چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ،پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سربراہان ، غیر ملکی سفارتکار اور اعلی فوجی اور سول حکام موجود تھے۔