قومی

  • قومی
  • Jun 25, 2019

قومی اسمبلی کا اجلاس

انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ماضی کے حکمرانوں نےبدعنوانی سےکمائےگئےاپنےکالےدھن کوچھپانےکےلئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کی رکنیت نہیں لی جس کا ملک کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر شیریں مزاری نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے منی لانڈرنگ کی روک تھا م کے لئے عالمی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی انیس سو اٹھانوے میں رکنیت حاصل کر لی تھی جبکہ دو سیاسی جماعتیں جو باری باری اقتدار میں آتی رہیں انکے سربراہوں نے جان بوجھ کر غفلت کا مظاہرہ کیا ۔
ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کا کیس بھی سابقہ حکومت میں وزارت خارجہ کی غفلت کے باعث عالمی عدالت میں گیا۔
وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پہلی بار وزیراعظم عمران خان نے احتساب کے حوالے سے واضح بیانیہ دیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ اگر میثاق معیشت پر قائد حزب اختلاف کو انکی جماعت سپورٹ نہیں کرتی تو ہمیں انکی حمایت کرنی چائیے۔
آبی وسائل کے وزیر فیصل واڈا نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتوں میں پن بجلی کے متعدد منصوبے شروع کر کے انھیں ادھورا چھوڑ دیا جس سے قوم کے اربوں روپے ضائع ہوئے۔انھوں نے کہا کہ بدعنوان افراد کو عبرت ناک سزا دینے کے بیان پر وہ ابھی بھی قائم ہیں ۔
پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے نہیں لگانے چائیے، وزیراعظم عمران خان سچے عاشق رسول ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی مدینہ جاتے ہیں تو احتراماجوتے اتار کرجاتے ہیں ۔
سندھ میں فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے سے متعلق معاملے پر غذائی تھفظ کے وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان نے بتایا کہ فصلوں پر ایک ہوائی جہاز کے ذریعے سپرے کیا جا رہا ہے تاہم نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔
مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے اپنے پروڈکشن آرڈر جاری کرنےپر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا شکریہ ادا کیا ۔
مسلم لیگ نون کے ہی خواجہ آصف نے کہا کہ انکے بجٹ پر تحفظات ہیں ، میثاق معیشت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے مابین ہونا چائیے۔
بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب اختلاف کے دیگر ارکان نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے سمیت چھوٹے تاجروں اور زراعت کی ترقی کے لئے مزید اقدامات کرنے چائیے۔
حکومتی ارکان نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے خود تو عوام کے پیسوں سے اپنی جیبیں بھریں تاہم ملک پر اربوں ڈالر کے مہنگے قرضوں کا بوجھ لاد دیا جن پر اب بھاری سود ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔