بین الاقوامی

  • بین الاقوامی
  • Jun 26, 2019

امریکی صدر نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ، اُن کے قریبی ساتھیوں اور دفتر پر بھی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا ہے۔ایران نے کہا ہے کہ نئی پابندیوں سے امریکہ نے سفارتکاری کے راستے بند کردیئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈرپر دستخط کئے ۔بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی پابندیاں گزشتہ ہفتے ایران کی جانب سے امریکی ڈرون طیارہ مار گرانے پر امریکی ردعمل کااظہار ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر دباؤ جاری رہےگا اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ صدر ٹرمپ نےالزام لگایا کہ خامنہ ای، ایران کی جانب سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کے ذمہ دار ہیں۔نئی امریکی پابندیوں سے دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں تک ایران کی رسائی متاثر ہو گی۔بیرون ملک محفوظ سینکڑوں ارب ڈالر تک ایران کی رسائی بھی ختم ہو جائے گی۔ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ جلد ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف پر بھی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کہا ہے کہ نئی پابندیوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتکاری کے تمام راستے بند ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ عالمی امن اور سلامتی کے بین الاقوامی طریقہ کار کو تباہ کررہی ہے۔
اُدھر ماسکو میں روس کے نائب وزیرخارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ روس ، ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کا مناسب سدباب کرنے کے لیے اقدامات کرےگا تاہم انہوں نے جوابی اقدامات کی تفصیل بیان نہیں کی ۔روسی نائب وزیر خارجہ کے مطابق نئی امریکی پابندیوں سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور امریکہ کو ایسی پابندیاں لگانے کے بجائے ایران کے ساتھ مکالمت کے آپشنز پر غور کرنا چاہیے۔
بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران پر نئی امریکی پابندیوں کے نفاذ کے بعد صبروتحمل کے مظاہرے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران پر دباؤمیں اضافےسے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ایسے اقدامات کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اورخطےکے امن کو نقصان پہنچا ہے۔