قومی

  • قومی
  • Jun 12, 2019

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملکی معیشت مشکل حالات سے گزر رہی ہےاور مشکل حالات سے نمٹنا ہماری ذمہ داری ہے۔اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمشیر خزانہ نے کہا کہ کل موجودہ حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا گیا جس میں اندرونی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ برآمدا ت میں واضح کمی آئی جس سے ڈالر کی قیمت بڑھی اسی وجہ سے برآمد کنندگان کو برآمدات بڑھانے کیلئے مراعات دی گئی ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہاکہ آمدن اور اخراجات میں توازن کیلئے محصولات کا دائرہ کار بھی بڑھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجموعی محصولات کی آمدن کا نصف قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت سے پہلے 100ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے۔ماضی کے قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئےدوہزار نو سو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ہمارے ہاں امیر طبقہ کم ٹیکس دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کفایت شعاری پالیسی اپناتے ہوئے حکومتی اخراجات کو واضح طور پرکم کیا ہے جس کا مقصد عوام کو پیغام دینا ہے کہ ہم اپنے اخراجات میں کمی لائینگے۔عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عسکری قیادت نے رضاکارانہ طور پر بجٹ میں اضافہ نہیں لیا اورپاک فوج نے اپنے اخراجات کو گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہم ہر معاملے میں متحد ہیں۔مشیر خزانہ نے کہاکہ ہمیں کمزور طبقے کو احساس دلانا ہےکہ حکومت انکے ساتھ ہے۔کمزور طبقے کی مالی معاونت کیلئے 100ارب کو 191ارب روپے تک لے گئے ہیں۔300یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنیوالوں کیلئے سبسڈی بھی متعارف کرائی ہے اورسبسڈی کی مد میں 216ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 950ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ترقیاتی منصوبوں میں ڈیمز،سڑکوں کی تعمیر، بلوچستان ، کراچی اور قبائلی اضلاع شامل ہیں۔فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 152ارب روپے رکھے گئے ہیں۔اس رقم سے فاٹا کے لوگوں کی ترقی کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔مشیر خزانہ نے کہاکہ نجی شعبے کی بہتری کیلئے بجلی ، گیس اور قرضوں کی سہولتیں فراہم کی جائینگی۔انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔برآمد کنندگان کے ملک کے اندر مصنوعات فروخت کرنے پر ٹیکس لاگو ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ری فنڈ کے شعبے میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔چین اور بنگلہ دیش کی طرز پر ٹیکس ری فنڈ نظام میں بہتری لائیں گے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ فائلر اور نان فائلرز کے درمیان فرق کو ختم کیا جا رہا ہے۔تاہم نئی گاڑی اور جائیداد خریدنے کیلئے نان فائلر کو فائلر بننا پڑے گا۔انہوں نے بتایا کہ فائلر بننے کا عمل آسان ترین بنا دیا گیا ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ درآمدی خام مال پر کسٹم ڈیوٹی صفر کر دی گئی ہے تاہم غیر ملکی درآمدا ت پر 4فیصد ٹیکس لاگو کیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی ختم کرنے کا مقصد مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے۔