قومی

  • قومی
  • Apr 20, 2019

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اسلام آباد میں نیوز بریفنگ

وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی نے کہا اورماڑہ ہَنگول نیشنل پارک کےقریب بزئی ٹاپ کےمقام پردہشت گردی کے واقعے میں شہید چودہ افراد میں 10جوان پاک بحریہ ،3 پاک فضائیہ اور ایک کوسٹ گارڈ کا اہلکار شامل ہے۔اسلام آباد میں نیوز بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ بی آر اے نے بزئی ٹاپ واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔اس تنظیم کے تربیتی کیمپ ایران کے سرحدی علاقے میں ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کو پاکستانی قوم کے جذبات اور غم و غصے سے آگاہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی آر اے کے تانے بانے افغانستان میں بھی ملتے ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے سرحدی حساسیت کی وجہ سے پہلے ہی اقدامات اٹھائے ہیں۔ پاکستان نے سرحد پر بہتر نگرانی کے لئےایک نئی سیون کمانڈ تشکیل دی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کیساتھ سرحد محفوظ بنانے کیلئے ایک نئی فرنٹیئر کور تشکیل دی ہے۔ اس کے علاوہ سرحد کو پر امن اور محفوظ رکھنے کیلئے مشترکہ بارڈر سینٹر بھی قائم ہونگے۔کچھ مقامات پر ایران کے ساتھ بھی سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا جا چکا ہے۔ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی اہلکاروں کی بازیابی کیلئے پاکستان کا کردار پوشیدہ نہیں ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی حکومت غربت کے خاتمے اور روزگار پیدا کرنے کا سوچ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت سمیت تمام ہمسائیہ ملکوں کیساتھ بھی تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کیخلاف کامیاب آپریشن کیے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانا چاہتے۔ بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔