ٹاپ سٹوری

  • ٹاپ سٹوری
  • Feb 22, 2019

وزیراعظم نےمسلح افواج کوبھارتی جارحیت کے بھرپورجواب کااختیاردے دیا

وزیراعظم عمران خان نے مسلح افواج کو بھارت کی طرف سے کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کا فیصلہ کن اور جامع جواب دینے کا اختیار دے دیا ہے۔اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ عسکریت پسندی اور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے تاکہ ریاست کبھی شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہ بن سکے۔ انھوں نے وزارت داخلہ اور سیکورٹی اداروں کو اس سلسلے میں فوری طور پر اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پلوامہ واقعہ کے بعد جیوسٹریٹجک اور قومی سلامتی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس نے نوٹ کیا کہ ریاست پاکستان اس واقعے میں کسی صورت ملوث نہیں ہے ۔ اس واقعے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد مقامی طور پر کیا گیا ۔ پاکستان نے واقعہ کی تحقیقات اور دہشتگردی سمیت دیگر متنازعہ امور پر مذاکرات کی مخلصانہ پیشکش کی۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ بھارت اس پیشکش کا مثبت جواب دے گا۔
اجلاس نے کہا کہ اگر تحقیقات یا فراہم کردہ ٹھوس شواہد سے یہ ثابت ہوگیا کہ کسی نے ہماری سرزمین استعمال کی ہے تو ریاست پاکستان کاروائی کرے گی۔ تاہم بھارت کو بھی اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ بھارت کو بھی اس حقیقت کا گہرائی سے جائزہ لینا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر کےلوگ موت سے کیوں بے خوف ہو چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے تشدد کا متضاد ردعمل ہو رہا ہے ۔ عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے دیرینہ مسئلے کے حل میں کردار ادا کرے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ ایک نیا پاکستان ہےاور ہم اپنے لوگوں کو یہ باور کرانے کیلئے پرعزم ہیں کہ ریاست انکے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کو ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ دہشتگردی اور شدت پسندی خطے بشمول پاکستان کو درپیش مسائل میں سرفہرست ہیں۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ستر ہزار جانوں کی قربانی دی اور قومی خزانے کو پہنچنے والا بھاری مالی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے دوہزار چودہ میں قومی لائحہ عمل تشکیل دیا گیا جسکے تحت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کے اتفاق رائے سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کی منظوری دی گئی۔