ٹاپ سٹوری

  • ٹاپ سٹوری
  • Jan 10, 2019

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس

وفاقی کابینہ نے سندھ سے بیرون ملک غیر قانونی رقوم بھجوانے کے سکینڈل میں جے آئی ٹی کی طرف سے دیئے گئے ناموں میں سے بیس افراد کے نام ایگزٹ کنڑول لسٹ سے نکالنے کی سفارش مسترد کردی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا اس حوالے سے کوئی بھی اقدام سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد کیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ کے اجلا س کو بتایا گیا کہ سندھ سے بیرون ملک غیر قانونی رقوم بھجوانے کا سکینڈل 2015میں شروع ہوا اور اس میں آصف زرداری ، فریال تالپور اورمراد علی شاہ سمیت اہم ارکان کے نام شامل ہیں ۔کابینہ نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی وزارت داخلہ کی درخواست منظور نہیں کی ۔ اور کہا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد کیا جائے گا۔ اسی دوران ای سی ایل میں شامل ناموں کا ایک کمیٹی جائزہ لے گی۔
کابینہ کا بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی کے باعث تجارتی خسارے میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے وزارت قانون کو اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزارت قانون کو اڑتالیس گھنٹوں میں نیگیٹو کیٹیگری کی فہرست فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔ ملک میں گیس کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم نے وزارت پیٹرولیم کو جامع پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں وزیراعظم ہاؤس میں اٹھاسی ہزار سے پچانوے ہزار یونٹ بجلی استعمال ہوتی تھی جو کم ہو کر اسوقت چوالیس ہزار یونٹ ہوگئی ہے۔ وزیراعظم نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے وہ وزیراعظم ہاؤس استعمال بھی نہیں کرتے پھر بھی اتنی بجلی کیسے استعمال ہورہی ہے۔ انھوں نے وزیراعظم ہاؤس کے سٹاف کا آڈٹ کرنے کی ہدایت کی۔ کابینہ اجلاس میں ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر خسرو بختیار نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتیں مہنگائی کا بے بنیاد واویلا کررہی ہیں۔ پیپلز پارٹی دور میں مہنگائی میں 11.2فیصد جبکہ مسلم لیگ۔ن دور حکومت میں چار فیصد اضافہ ہوا۔ تحریک انصاف کی حکومت کو پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد مہنگائی وراثت میں ملی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت مختلف پروگراموں کے ذریعے مہنگائی کا بوجھ کم کریگی۔ سکریٹری شماریات نے پریزنٹشین دیتے ہوئے بتایا کہ عام استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔