ٹاپ سٹوری

  • ٹاپ سٹوری
  • Nov 08, 2018

وزیراعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس

وفاقی کابینہ نے متروکہ وقف املاک بورڈکی تنظیم نو کا فیصلہ کرتے ہوئے ایف بی آر سے ٹیکس پالیسی کا اختیار واپس لے کر پالیسی بورڈ کو دے دیا ہے۔ کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا۔
وفاقی کابینہ کا یہ گیارواں اجلاس تھا۔ ان اجلاسوں میں مجموعی طور ایک سو بیس فیصلے کئے گئے جن میں سے باہتر پر عملدرآمد ہوچکا ہے۔ آج کے اجلاس میں بھی کئی اہم فیصلے کئے گئے جن میں متروکہ وقف املاک بورڈ اور اربوں روپے کی اینیمی املاک کی تنظیم نو، لبرٹی ائیر لائن کو لائسنس دینے، ایس ای سی پی کا نیا بورڈ تشکیل دینے ،ٹیکسوں کے بارے میں پالیسی وضع کرنے کیلئے کمیٹی بنانے اور ایف بی آر سے ٹیکس پالیسی کا اختیار واپس لے کر پالیسی بورڈ کو دینا شامل ہیں۔ اجلاس میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے پروٹوکول پر دستخط کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دور چین کے بارے میں کابینہ کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم کے کامیاب دورے سے پاکستان کے کئی مسائل خصوصاََ ادائیگیوں سے متعلق معاملات خاصی حد تک حل ہوگئے ہیں۔

اجلاس کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ آسیہ بی بی کے معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی گئی جس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے سے سوال پر چودھری فواد حسین نے کہا کہ شہباز شریف اپنے بھائی کے دور کے منصوبوں کا آڈٹ کیسے کر سکتے ہیں۔ مسلم لیگ۔ن کی طرف سے انھیں چیئرمین بنانے کا مطالبہ اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔
ایک سوال پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر پیشرفت ہو رہی ہے ۔ پی ٹی وی سے متعلق سوال پر انکا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔