قومی

  • قومی
  • Mar 20, 2017

پاکستان آرمی ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش

پاکستان آرمی ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے ۔وزیر قانون زاہد حامد نے اٹھائیسویں ویں آئینی ترمیم کے بل میں مزید ترامیم کیلئے تحریک بھی ایوان میں پیش کی۔ وزیر قانون نے کہا کہ بل میں ترامیم سے متعلق تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی ۔ سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون نے اجلاس میں نجی کارروائی کےمنگل کے روز کے ایجنڈے کو معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا ۔کل بھی قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں سے متعلق آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم پر بات ہو گی ۔
وقفہ سوالات کے دوران وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ شناختی کارڈ کے حوالے سے تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کئے جا رہے ہیں اور جن کے شناختی کارڈ بلاک ہیں شواہد ملنے کے بعد شناختی کارڈ جاری کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو شواہد اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔ کسی بھی غیرملکی کو شہریت اور شناختی کارڈ نہیں دیں گے۔
چودھری نثار علی خان نے کہا کہ پشتونوں اور سندھیوں کے نام پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دیں گے۔
توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں پانی و بجلی کے وزیرمملکت عابد شیر علی نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں بہت جلد بجلی کے ٹرانسفارمرز کی ورکشاپ دوبارہ کام شروع کر دے گی۔
وفاقی اداروں میں تنخواہوں اور پے سکیل کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں فنانس کےپارلیمانی سیکرٹری رانا محمد سعید نے کہا کہ وفاقی ادارے ہر سال پے سکیل ریوائز کرتے ہیں اور پنشن میں بھی اضافہ کیا جاتا ہے۔