قومی

  • قومی
  • Jul 11, 2018

سینیٹ اجلاس

سینیٹ کو بتایا گیا کہ نگران وزیراعظم ناصر الملک نے کل پشاور میں اپیکس کمیٹی کا اعلی سطح اجلاس طلب کر لیا ہے ۔ سینیٹ ارکان نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہارون احمد بلور کی شہادت کو پورے ملک کا نقصان قراردیا ہے ۔
سینیٹ اجلاس چئیرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں شروع ہوا تو قائد حزب اختلاف شیری رحمن نے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کر کے پشاور دھماکے پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا ۔ جس پر چئیر مین نے معمول کی کارروائی معطل کرتے ہوئے بحث کی اجازت دی ۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان سینیٹ نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے نگران حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں صاف شفاف انتخابات کے انعقاد اور تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں آزادانہ طور پر حصہ لینے کے لئے موثر سیکورٹی انتظامات کو یقینی بنا یا جائے ۔ارکان سینیٹ نے جمہوریت کے استحکام کے لئے بلور خاندان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہارون احمد بلور ایک بہادر باپ کے بہادر فرزند تھے ۔
اس موقع پر نگران وزیر داخلہ اعظم خان نے ایوان کو بتایا کہ پشاور دھماکے کی ذمہ داری کالعدم دہشت گردی تنظیم تھریک طالبان نے قبول کی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ نگران وزیراعظم نے پشاور میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں اعلی سول اور ملٹری حکام شریک ہونگے ۔ چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ارکان کے مطالبے پر نگران وزیرداخلہ کو ہدایت کی کہ وہ کل سینیٹ اجلاس میں انتخابی امیدواروں کی حفاظت کے لئے کئے گئے اقدامات سے ایوان کو آگاہ کریں ،۔ چئیر مین سینیٹ نے اس حوالے سے چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز سے بھی جواب طلب کر لیا۔
چئیر مین سینیٹ نے رولنگ دیتے ہوئے اس حوالے سے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا جس کو وزارت داخلہ اور نیکٹا حکام روزانہ کی بنیاد پر امیدواروں کی سکورٹی کے حوالے سے جواب دہ ہونگے۔
نگران وزیر داخلہ نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند کے سوال پر اس بات کی تصدیق کی کہ آصف علی زرداری کا نام سپریم کورٹ کے حکم پر ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے اور وہ اب ملک سے باہر نہیں جا سکتے ۔
قائد حزب اختلاف شیری رحمن نے کہا کہ جن سیاستدانوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں انکی سیکورٹی فوری طور پر بحال کی جائے ۔
قائد حزب ایوان راجہ ظفر الحق نے پشاور دھماکے کی مذمت کےلئے ایوان کی جانب سے قرداد بھی پیش کی جس کی ایوان نے متفقہ منظور ی دی ۔ قراداد میں دھماکے میں شہید ہونے والے ہارون احمد بلور سمیت دوسرے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستانی قوم انکے غم میں برابر کی شریک ہے ۔
سینیٹ اجلاس اب صبح گیارہ بجے ہوگا۔