ٹاپ سٹوری

  • ٹاپ سٹوری
  • May 25, 2018

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق اکتیسویں آئینی ترمیم کی منظوری

قومی اسمبلی نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق اکتیسویں آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔۔قبائلی عوام کو ستر سال بعد انکے حقوق دینے کے لئے دو سیاسی جماعتوں کے سوا سب سیاسی راہنماوں نےقومی یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا۔۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا جس میں وزیر قانون محمود بشیر ورک نے دستور میں اکتیسویں ترمیم کا بل پیش کیا ۔سپیکر سردار ایاز صادق نے ایوان کے معمول کے قواعد و ضوابط معطل کر کے بل پر بحث کی منظوری دی۔۔ بحث کے بعد بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوا ۔ جے یو آئی (ف) اورپشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے فاٹاکی خیبر پختونخوا میں شمولیت کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ پی ٹی آئی کے ایک منحرف رکن داوڑ کنڈی نے بھی بل کی مخالفت میں ووٹ دیا ۔بل کی شق وار منظوری کے بعد ترمیمی بل کی حتمی منظوری کا عمل شروع ہوا اور ارکان اسمبلی نے تقسیم کے عمل کے ذریعے فرداً فرداً ووٹ درج کیا ۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے تین سو بیالیس کے ارکان میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی۔۔ سپیکر نے آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کا اعلان کیا۔۔۔۔
پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان ، پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سیدنوید قمر اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحب زادہ طارق اللہ نے فاٹاکے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بل کی منظوری کو پارلیمنٹ کا تاریخ ساز اقدام قرار دیا ۔
اجلاس میں قومی اسمبلی نے مزید چھ قانونی بلز کی بھی کثرت رائے سے منظوری دی ۔ ان میں سے چار بلز خزانے کےوزیر مملکت رانا محمد افضل خان ن ے پیش کئے ۔ مشترکہ میری ٹائم معلوماتی تنظیم بل وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے پیش کیا جس میں ڈاکٹر شیریں مہر النساء مزاری کی ترمیم کو بھی منظوری کے بعد حصہ بنایا گیا ۔ وزیر قانون محمود بشیر ورک نے شام کے وقت عدالتوں کے قیام کے بل پیش کیا جس کی ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دی ۔
قومی اسمبلی نے دو قرادادوں کی بھی منظوری دی ۔ ایک قراداد ثریا اصغر نے پیش کی جس میں ورکنگ بانڈری پر واقع پاکستانی شہری علاقوں پر بھارتی بلا ا شتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی ۔ دوسری قرداد رکن اسمبلی شازیہ مری نے پیش کی جس میں امریکی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں جا ں بحق ہونے والی سترہ سالہ پاکستانی لڑکی سبیکا شیخ کے غمزدہ خاندان سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔