قومی

  • قومی
  • May 24, 2018

احتساب عدالت اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت

مریم نواز نے ایک سو اٹھائیس میں سے چھیالیس سوالوں کے جواب دے دیئے۔ عدالت میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اورر یٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر بھی پیش ہوئے ۔سماعت جج محمد بشیر نے کی۔اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ انہوں نےسپریم کورٹ میں کبھی تسلیم نہیں کیا کہ وہ لندن فلیٹس کی حقیقی یا بینیفشل مالک ہیں۔مریم نواز نے کہاکہ گلف سٹیل کاقیام ،سرمایہ ،آپریشن ،قرض کاحصول اورشیئرز کی فروخت سنی سنائی باتیں ہیں ۔میری عمر ایک سال تھی جب گلف سٹیل مل قائم ہوئی ۔سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی طرح مریم نواز کی طرح جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات کا اظہار کیا۔انہو ں نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ کو قانون شہادت کے مطابق بطور شواہد پیش نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہاہے ۔
وکیل صفائی خواجہ محمد حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ سوال نمبر ایک سو چوبیس کے تفصیلی جواب کو عدالتی ریکارڈ میں اضافی دستاویز کے طورپر بھی رکھاجائے ۔نیب کےپراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اضافی دستاویزات کو عدالتی ریکارڈ کاحصہ نہیں بنایاجاسکتا۔ وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے وکیل صفائی کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل پھر ہو گی۔مریم نواز اپنابیان جاری رکھیں گی ۔