قومی

  • قومی
  • Jan 12, 2018

لاہور ہائی کورٹ میں زینب قتل کیس نوٹس کی سماعت

لاہور ہائی کورٹ نےآئی جی پنجاب کو چھتیس گھنٹے میں زینب قتل کیس کے ملزم گرفتار کرنے کاحکم دیا ہے۔
آٹھ سالہ زینب کے اندوہناک قتل کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز دو رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے ۔ آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب پولیس پوری ایمانداری سے زیادتی اور قتل کے ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہے۔کیس کی تفتیش کے سلسلے میں اب تک دوسوستائیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن سےتفتیش کا عمل جاری ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ پولیس نے زینب قتل کیس سے پہلے قصور میں ہونے والے زیادتی اور قتل کے واقعات پرکیا پیشرفت کی ہے۔آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران قصور میں زیادتی اور قتل کے گیارہ واقعات ہوئے ۔ پولیس نے جن ملزمان کو گرفتار کیا ان میں سے ایک ملزم کا ڈی این ائے چھ مختلف کیسوں سے اکٹھے کیے جانے والے شواہد سے میچ کر گیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قصور میں زیادتی اور قتل کے واقعات پر پوری قوم افسردہ ہے۔ انہوں نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
عدالت نے قصور میں ہونے والے ان تمام جرائم کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے اب تک کیے جانے والے اقدامات پر مبنی مکمل رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ کیس کی مزید سماعت پندرہ جنوری کو ہو گی۔