قومی

  • قومی
  • Jan 12, 2018

قومی اسمبلی کا اجلاس

قبائلی عوام کے لیے خوشخبری ۔ قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ اور پشاورہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو فاٹا تک توسیع دینے کے بل کی متفقہ منظوری دے دی ہے ۔ اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا ۔ جس میں وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک نے بل پیش کیا ۔
ایوان نے بل کی کثرت رائے سے منظوری دی ۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اسے فاٹا کے عوام کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا کا پختونخوا میں انضمام بھی ہو گا ۔ انہوں نے فاٹا کے عوام کو قانونی حقوق ملنے پر مبارکباد دی ۔ سیفران کے وزیر عبدالقادر بلوچ نے بل کی منظوری میں اپوزیشن کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام کے لیے آج بڑی خوشخبری کا دن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری سے فاٹا کے عوام قومی دھارے میں شامل ہوں گے ۔
اس سے فاٹا میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایف سی آر قانون کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا ۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت سیفران ، غالب خان وزیر نے کہا کہ فاٹا کے عوام کو ان کے قانونی حقوق دینے کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کو جاتا ہے ۔ رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان ، نذیر خان ،حاجی شاہ جی گل آفریدی ، غازی گلاب جمال ، صاحبزادہ طارق اللہ اور شیخ صلاح الدین نے بھی سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کی فاٹا تک توسیع کے بل کی منظوری کو اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان مضبوط ہو گا ۔
اس سے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو پارلیمانی امور کے وزیر شیخ آفتاب احمد نے معمول کے ایجنڈے کو معطل کر کے قصور میں سات سال کی بچی زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے افسوسناک واقعے پر بحث کی قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ اس واقعے سے ہر پاکستانی کی آنکھ اشک بار ہے ہمیں مل کر ایسے وحشیانہ اقدامات کی روک تھام کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اطلاعات و نشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے واقعات پر سیاست کرنے کی بجائے سیاسی اور ذاتی وابستیگوں سے بالاتر ہو کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام صوبوں کو اپنے تعلیمی نصاب میں بچوں کو شعور دینے سے متعلق مواد شامل کرنا چاہیئے ۔
وزیر مملکت محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ قصور جیسے واقعات کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ایسے وحشیانہ اقدامات میں ملوث افراد کو سب کے سامنے پھانسی دینی چاہیئے ۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کی کئی پہلووں سے تحقیقات جاری ہیں اور وہ ایوان کو یقین دلاتے ہیں کہ بہت جلد پنجاب پولیس ننھی زینب کے قاتلوں تک پہنچ جائے گی ۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر شیری مزاری ، نعیمہ کشور خان ، کشور زہرہ ، صاحبزادہ طارق اللہ ، علی محمد خان سمیت دوسرے ارکان نے کہا کہ ایسے واقعات کا تسلسل سے ظہور پذیر ہونا پورے معاشرے کے لیے باعث شرمندگی ہے ۔ مسئلہ قانون سازی کا نہیں بلکہ پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا ہے ۔ اجلاس میں قصور میں زیادتی کا شکار ہونے کے بعد قتل ہونے والی سات سالہ معصوم زینب کے لیے دعا بھی کی گئی ۔ ایوان میں سابق جوائنٹ چیفس آف آرمی سٹاف خالد شمیم وائیں ، مرحوم ریٹائرڈ ائیر مارشل اصغر خان ، مہمند ایجنسی اور لائن آف کنٹرول پر شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے ایصال ثواب کے لیے بھی دعا کی گئی ۔