ٹاپ سٹوری

  • ٹاپ سٹوری
  • Dec 07, 2017

پاکستان کا امریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پر شدید تشویش کا اظہار

امریکہ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کےممکنہ فیصلے پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے ملکوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیاہے۔

پاکستان کی حکومت اور عوام نےامریکہ کی طرف سے اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام نہ صرف عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گا بلکہ یہ مسئلہ فلسطین پر کئی دہائیوں کے اتفاق رائے کے بھی خلاف ہو گا۔پاکستانی عوام اور حکومت ایسے کسی بھی اقدام کی دوٹوک مخالفت کرتے ہیں ۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے یہ مبینہ عمل علاقائی امن اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے عمل کو متاثر کرے گا۔پاکستان کی طرف سے کہا گیا ہے امریکہ بیت المقدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت متاثر کرنے کے اقدام سے باز رہےاوراس معاملے پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کا احترام کیا جائے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان نے معاملے پر او آئی سی کے حالیہ اعلامیے کی مکمل توثیق کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک آزاد ،خودمختار اور مستحکم فلسطینی ریاست کے قیام کا خواہاں ہے۔

امریکی صدر کے فیصلے پر عرب ممالک سمیت دیگر عالمی راہنماوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نےامریکی سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔

سعودی فرمانرواشاہ سلمان بن عبدالعزیزنے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ یہ اقدام دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا سکتا ہے ۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت مسلمانوں کے لیے سرخ لکیرکی طرح ہےاور اس حد کو عبورکرنے کی صورت میں ترکی، اسرائیل کےساتھ اپنے تعلقات منقطع کر سکتا ہے۔

فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بنیادی ڈھانچے میں ہونا چاہیے۔

مصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر مقبوضہ بیت المقد س کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے منصوبے پر عملدرآمد کرتے ہیں تو اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔

اردن کے شاہ عبد اللہ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو کمزور کرے گا اور مسلمانوں کو اشتعال دلائے گا۔
حماس کا کہنا ہےکہ امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقد س منتقل کرنے کا مطلب ہےکہ امریکہ سرخ لکیر کو عبور کر رہا ہے۔

پوپ فرانسس نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ مزید ظالمانہ تنازعات کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کیا جائے۔

عرب اتحاد کے سربراہ احمد ابو الغیث نے متنبہ کیا یہ ایک خطرناک قدم ہے جس کے بالواسطہ اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی فیصلہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت کے بارے میں برسوں پر محیط امریکی پالیسی اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے منافی ہے۔

بیت المقدس کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کی جڑ ہے۔انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے لے کر مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے والا امریکہ پہلا ملک ہے ۔