قومی

  • قومی
  • Sep 13, 2017

پانامہ کیس : فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کل تک ملتوی

سپریم کورٹ نے پاناما دستاویزات سے متعلق کیس کے فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کل تک ملتوی کردی ۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سابق وزیراعظم محمدنواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو کل تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے موقف اختیار کیاکہ اٹھائیس جولائی کے عدالتی فیصلے میں قانونی سقم موجود ہیں ۔ ایف زیڈ ای کمپنی کی تنخواہ کے جس معاملے پر ان کے موکل کو نااہل قرار دیاگیا آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ ان کے موکل نے جب کیپیٹل ایف زیڈ ای کمپنی سے کوئی تنخوا ہ وصول ہی نہیں کی تواسے ان کا اثاثہ کیسے قراردیاجاسکتاہے ۔باسٹھ ون ایف پر فیصلہ دینے سے قبل نواز شریف کو صفائی کا موقع دیاجاناچاہیے تھا۔عدالتی فیصلوں کی نظیریں موجود ہیں جہاں نااہلی کا فیصلہ دینے سے قبل ملزم کو پیشی کا موقع دیاگیا۔ خواجہ حارث نے کہاکہ جے آئی ٹی نے صرف اقامہ کی دستاویز دکھائی نواز شریف کی تنخواہ وصولی کے حوالے سے کوئی تحقیقات نہیں کیں۔انہوں نے کہاکہ عدالت کو براہ راست نتائج پر پہنچنے کی بجائے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ جرح کے بغیر محمدنواز شریف کی صداقت اور ایمانداری کے حوالے سے کیسے فیصلہ دیاجاسکتاہے ۔ عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کو نااہل قراردینے کا ایک پورا قانونی طریقہ کار ہے جسے نظرانداز کیاگیا ۔ عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دے کر انہیں اپیل اورصفائی کے حق سے محروم کردیا۔ تمام قانونی مراحل کو نظرانداز کرکے باسٹھ ون ایف کا اطلاق تشویشناک ہے ۔ خواجہ حارث نے کہاکہ ان کے موکل نے ارادی طور پر ایف زیڈ ای کمپنی کی تنخواہ کامعاملہ نہیں چھپایا ۔درخواست گزار نے اپنی درخواست میں ایف زیڈ ای کمپنی کا معاملہ اٹھایا بھی نہیں تھا اور نہ ہی اس بنیاد پر نااہلی کی استدعا کی تھی ۔
خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ بیس اپریل کو اقلیتی فیصلہ سنانے والے دو ججز اٹھائیس جولائی کو حتمی فیصلہ سنانے والے بنچ کا حصہ نہیں ہوسکتے تھے ۔ اقلیتی فیصلہ موجود ہونے کی صورت میں اٹھائیس جولائی کا فیصلہ متفقہ کیسے ہوسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاناما دستاویزات سے متعلق کیس میں عدالت نیب کو یہ حکم صادر نہیں کرسکتی تھی کہ اسے کن شواہد کی بنا پر کیسے ریفرنسز تیار کرنے ہیں ۔ نیب ریفرنسز پر ہونے والی پیشرفت کے جائزے کے لئے سپریم کورٹ نگران جج بھی مقرر نہیں کرسکتی تھی ۔ مقدمے کے فیصلے میں ایسی ہدایات کی بنیاد پر سپریم کورٹ کا کردار شکایت کنندہ کا بن گیاہے جس کے باعث ان کے موکل محمدنواز شریف کا شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہواہے ۔
عدالت نے کہا کہ بیس اپریل کا فیصلہ حتمی نہیں تھا ۔عدالتی فیصلوں کی بے شمار ایسی بے شمار نظیریں موجود ہیں جہاں اکثریتی فیصلے سے اختلاف ہونے کے باوجود ججز نے حتمی فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اس پر دستخط کئے ۔عدالت نےواضح کیا کہ اقلیتی فیصلہ دینے والے دوججز نے اٹھائیس جولائی کے فیصلے میں ایک لفظ بھی تحریر نہیں کیا اور باقی تین ججز کے فیصلے کی توثیق کی ہے ۔ عدالت نے خواجہ حارث سے کہاکہ ٹرائل کورٹ میں جرح کے مرحلے پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کو غلط ثابت کیاجاسکتاہے ۔