بین الاقوامی

  • بین الاقوامی
  • Sep 12, 2017

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف آپریشن نسل کشی ہے: اقوامِ متحدہ

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو سکیورٹی آپریشن میں نشانہ بنائے جانا اُن کی نسل کشی کی واضح مثال ہے۔
اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید بن رعد الحسین نے جنیوا میں حقوق انسانی کمیشن کونسل میں خطاب کرتے ہوئے میانمار کی حکومت پر زور دیا کہ ریاست رخائن میں جاری ظالمانہ فوجی آپریشن ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن واضح طور پر غیر متناسب ہے۔ زید بن رعد الحسین نے کہا کہ اس صورتحال کو پوری طرح دیکھا نہیں جا سکتا کیونکہ میانمار نے انسانی حقوق کا جائزہ لینے والوں کو وہاں تک رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق مختلف رپورٹس، سیٹلائیٹ سے لی گئی سکیورٹی فورسز اور لوکل ملیشیا کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ روہنگیا کے گاؤں کو آگ لگا رہے ہیں، ماورائے عدالت قتل کے مسلسل واقعات دیکھنے میں آئے اور ان میں بھاگتے ہوئے شہریوں کو گولی مارا جانا بھی شامل ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا کہ رخائن میں ملٹری آپریشن ختم کیا جائے اور سب کے لیے احتساب ہو۔انہوں نےروہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے بھارت کے فیصلے کی بھی مذمت کی ۔
دوسری جانب روہنگیا مسلمانوں پر جہاں میانمارمیں ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے وہیں بھارت اور بنگلہ دیش بھی انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں ۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدرکرنے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے روہنگیامسلمانوں کو ملکی سکیورٹی کےلئے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔